نئی دہلی،18؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) دیوالی کے بعد بڑھتی فضائی آلودگی سے دہلی کی فضائی کثافت خطرناک سطح پر پہنچنے سے سرکار پریشان تھی، اب یہی حال ہریانہ کا بھی ہے جس کو دیکھتے ہوئے اور بڑھتی آلودگی کو روکنے کے لیے ہریانہ حکومت نے 14 اضلاع میں 21 نومبر تک 50 فیصد اسٹاف کے لئے وَرک فروم ہوم نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت نے یہی حکم پرائیویٹ اداروں کو بھی نافذ کرانے کی ہدایت دی ہے ۔
حکومت کے فرمان کے مطابق بڑھتی آلودگی پر قابو پانے کے لئے اسکول و کالج اور تعلیمی اداروں کو آئندہ حکم تک بند رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ہریانہ حکومت نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی آلودگی پھیلاتے ہوئے پکڑا جائے گا، اس پر بھاری جرمانہ لگایا جائے گا۔ بڑھتی آلودگی کے سبب این سی آر میں آنے والے ہریانہ کے 14 اضلاع میں پرانی گاڑیوں کے چلنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اب ڈیزل کی 10 سال اور پٹرول کی 15 سال پرانی گاڑیاں اب سڑک پر چلتی ملیں تو انہیں فوراً امپاؤنڈ کر دیا جائے گا۔
بدھ کو گروگرام پہنچے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے کہا تھا کہ آلودگی کا مسئلہ سنگین ہے۔ یہ مسئلہ نیا نہیں بلکہ گزشتہ کئی سالوں سے ہم برداشت کر رہے ہیں۔ اس کا سیدھا اثر عام لوگوں کی صحت پر پڑ رہا ہے۔ سپریم کورٹ کی گائیڈ لائن کے مطابق اسکول و کالج کے علاوہ دیگر تعلیمی ادارے اور کچھ صنعتی یونٹس کو بھی بند کیا گیا ہے۔ بتاتے چلیں کہ دہلی-این سی آر، ہریانہ اور یو پی اس وقت ماحولیاتی آلودگی کی زد پر ہے۔